Add Your Blog | | Signup
رعنائیِ خیال · 3W ago

دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا ۔ عزیز لکھنوی

غزل​دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا وہ مرا پہلے پہل داخلِ زِنداں ہوناقابلِ دید ہے اس گھر کا بھی ویراں ہوناجس کے ہر گوشہ میں مخفی تھا بیاباں ہوناجی نہ اٹھوں گا ہے بے کار پشیماں ہوناجاؤ اب...
رعنائیِ خیال · 3W ago

آنکھوں سے مِری کون مرے خواب لے گیا

غزل​آنکھوں سے مِری کون مرے خواب لے گیاچشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیااِس شہرِ خوش جمال کو کِس کی لگی ہے آہکِس دل زدہ کا گریہ خونناب لے گیاکُچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دُور تھاکُچھ قسمتوں کے...
رعنائیِ خیال · 3W ago

قہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگ

غزلقہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگجانے کس دھن میں سلگتے ہیں بجھائے ہوئے لوگتو بھی چاہے تو نہ چھوڑیں گے حکومت دل کیہم ہیں مسند پہ ترے غم کو بٹھائے ہوئے لوگاپنا مقسوم ہے گلیوں کی ہوا ...
رعنائیِ خیال · 4W ago

روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریں

غزل روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریںکیسے منائیں، کس کو پکاریں، کس سے بات کریںہم نے خود ہی پیدا کی ہے ایک نئی تہذیبہاتھ میں گُل، دل میں تلواریں کس سے بات کریںمحفل پھیکی، ساقی بہکا، زہ...
رعنائیِ خیال · 1M ago

ظالم سماجی میڈیا

ظالم سماجی میڈیا محمد احمد​ہم ازل سے سُنتے آ رہے ہیں کہ سماج ہمیشہ ظالم ہوتا ہے اور سماج ک...
رعنائیِ خیال · 1M ago

غزل ۔ بے حس و کج فہم و لاپروا کہے ۔ مرتضی برلاس

غزلبے حس و کج فہم و لاپروا کہےکل مورّخ جانے ہم کو کیا کہےاس طرح رہتے ہیں اس گھر کے مکیںجس طرح بہرہ سُنے، گونگا کہےراز ہائے ضبطِ غم کیا چھپ سکیںہونٹ جب خاموش ہوں چہرہ کہےاس لئے ہر شخص کو دیکھ...
رعنائیِ خیال · 1M ago

اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سنہرے اقوال . ٢

اقوالِ سعید حکیم محمد سعید کے اقوالانسان ٹھوکریں کھاتا ہے مگر کچھ سبق حاصل نہیں کرتا۔ تاریخ بے چاری ہے کہ اپنا سبق دُہرائے جارہی ہے۔ناقدریِ وقت سے غلامی کی زنجیریں پیروں میں پڑ جایا کرتی ہیں...
رعنائیِ خیال · 1M ago

اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سنہرے اقوال

اقوالِ سعید حکیم محمد سعید کے اقوالاہلیانِ پاکستان کے لئے حکیم محمد سعید صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ حکیم محمد سعید صاحب نہ صرف  ایک مایہ ناز حکیم تھے بلکہ مملکتِ پاکستان کے با...
رعنائیِ خیال · 2M ago

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ شکریہ

شکریہہفتہٴ غزل کے اختتام پر ہم اپنے احباب کے شکر گزار ہیں کہ جن سے ہمیں بہت حوصلہ افزائی م...
رعنائیِ خیال · 2M ago

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے ۔ خواجہ حیدر علی آتش

آج کی معروف غزلیہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتےہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتےپیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوازبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتےمری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہکسی حبیب کی یہ...