Add Your Blog | | Signup
رعنائیِ خیال · 2W ago

غزل ۔ دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں ۔ سیماب اکبر آبادی

غزلدل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میںدنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئیاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میںآزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سےجی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال می...
رعنائیِ خیال · 2W ago

نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے ۔۔۔ شاہد صدیقی

غزلیہ کیا ستم ہے کہ ، احساسِ درد بھی کم ہےشبِ فراق ستاروں میں روشنی کم ہےاک ایسی موجِ کرم ...
رعنائیِ خیال · 3W ago

ارے! خواب تو دیکھ

غزلدن بھلے جیسا کٹے، سانجھ سمے خواب تو دیکھچھوڑ تعبیر کے خدشوں کو، ارے! خواب تو دیکھجھونپڑ...
رعنائیِ خیال · 3W ago

انتخابِ نثر ۔۔۔ گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس​

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس​ایک فارسی شعر ہےگر تو می خواہی کہ باشی خوش نویسمی نویس و می نویس و می نویس(اگر تو چاہتا ہے کہ اچھا لکھنے والا بن جائے تو لکھتا رہ، لکھتا رہ لکھتا رہ)​یہ شعر ا...
رعنائیِ خیال · 3W ago

نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے

غزلنہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارےتَو پھرتُو اپنے اندر جھانک پیارےطلاطم خیز ہے جو دل کا دریاسفالِ دشتِ وحشت پھانک پیارےاگر مَہتاب دل کا بجھ گیا ہےسرِ مژگاں ستارے ٹانک پیارےہے اُلفت سے دگر ا...
رعنائیِ خیال · 3W ago

نظم ۔۔۔ تنگدستی اگر نہ ہو ۔۔۔ اختر شمارؔ

تنگدستی اگر نہ ہواپنے گھر کے باغیچے میں پھول نہیں تھےبابا یہ کہتے تھے بچو!میرے پھول تو تم ہو!اور تمہارے کارن اس باغیچے میںدھنیا مرچیں، اور پودینہ سبزی مائلروکھی روٹی کو کافی ہےبھوک میں روکھی...
رعنائیِ خیال · 1M ago

نظم: حیرت ۔ از ۔ محمد احمد

حیرتایک بستی تماش بینوں کی،اک ہجوماژدھام لوگوں کادیکھ میرے تنِ برہنہ کوہنستا ہےقہقہے لگاتا ہےاور میں ششدر ہوںدیکھ کر اُن کوسب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن ۔محمد احمدؔ
رعنائیِ خیال · 1M ago

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ۔۔۔۔! جاوید اختر

کچھ گیت اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ اُنہیں محض فلمی گیت سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا...
رعنائیِ خیال · 1M ago

کیا آپ حالات کے پروردہ ہیں؟

اسٹیفن کوی کہتے ہیں :I am not a product of my circumstances. I am a product of my decisions.–Stephen Coveyاسٹیفن کوی معروف امریکی مصنف ہیں جنہوں نے مشہورِ زمانہ کتاب "The 7 Habits of Highly ...
رعنائیِ خیال · 1M ago

غزل ۔ بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے ۔ محمد تابش صدیقی

محمد تابش صدیقی کی خوبصورت غزلغزلبات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئےاشک جو بہنے نہیں تھے بہہ گئےراہِ حق ہر گام ہے دشوار ترکامراں ہیں وہ جو ہنس کر سہہ گئےزندگی میں زندگی باقی نہیںجستجو اور شوق پیچھے...